بہاول نگر تعارف

بہاول نگر شہر ضلع کا صدر مقام ہے- یہ شہر 1904ء میں ریاست بھاول پور کے نواب محمد بھاول خان پنجم کے نام پر بسایا گیا -اس سے پہلے یہاں قریب ترین بستی روجھانوالی ( اُبھا ) موجود تھی اور اس علاقے کو اسی نام سے جانا جاتا تھا -1723ء میں یہ ضلع ریاست بھاولپور کا حصہ تھا جو بھاولپور،رحیم یار خان اور بھاولنگر کے اضلاع پر مشتمل تھی- قیام پاکستان کے وقت ریاست بھاولپور کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہو گیا اور1956ء میں ون یونٹ کے قیام کے وقت ریاست بھاولپور کو پنجاب میں ضم کر دیا گیا یوں ضلع بھاول نگر پنجاب کا ایک ضلع بن گیا-
ضلع بھاولنگر کی 1998 ء کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی بیس لاکھ انتالیس ہزار نو سو پینسٹھ افراد پر مشتمل ہے- ضلع بھاولنگر شمالی عرض بلد میں 15-20 ڈگری سے 22-30 ڈگری اور مشرقی طول بلد میں 17-72 ڈگری سے 58-73 ڈگری پر واقع ہے- ضلع کا کل رقبہ 878,8 مربع کلومیٹر ہے- ضلع کی وشمال سے جنوب کی طرف لمبائی 5 .128 کلو میٹر ہے اور چوڑائی مشرق سے مغرب کی طرف 1 ،69 کلومیٹر ہے- اس میں چولستان کا رقبہ شامل نہیں ہے-
ضلع بھاولنگر کا حدود اربعہ یوں ہے . ضلع کے شمال میں دریائے ستلج ، مشرق سے مغرب کی طرف بہتا ہے اور ضلع کی حدود کا تعین بھی کرتا ہے . دریائے ستلج کے دوسرے کنارے یعنی شمال کی طرف ضلع اوکاڑہ ، ضلع پاکپتن اور ضلع وہاڑی آتے ہیں . مغرب میں ضلع بھاولپور ہے اور مشرق سے جنوب کی طرف ہندوستانی علاقے فیروزپور اور بیکانیر ہیں.
ضلع میں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی ہوتی ہے . گرمی کا موسم اپریل سے اکتوبر تک رہتا ہے . مئی ، جون اور جولائی کے مہینوں میں شدید گرمی ہوتی ہے . درجہ حرارت 52 سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور سردیوں میں درجہ حرارت 2 سینٹی گریڈ تک رہ جاتا ہے.
ضلع بھاولنگر پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے جو منچن آباد ، بھاول نگر ، چشتیاں ، ہارون آباد اور فورٹ عباس . پانچوں تحصیلوں کے ہیڈکواٹر ضلع کے پانچ اہم شہر ہیں . ان میں چشتیاں سب سے قدیم شہر ہے جو خواجہ نور محمد مہاروی جو کہ چشتی سلسلہ مشائخ سے تعلق رکھتے تھے کی وجہ سے چشتیاں کہلانے لگا . 1870ء کو منچن آباد میں پہلا ضلعی ہیڈ کواٹر بنایا گیا بعد ازاں 1875ء میں بھاولنگر کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا اور پھر 1904ء میں ضلع بنا دیا گیا . ہارون آباد اور فورٹ عباس محض ریلوے اسٹیشنوں کے نام تھے . یہ نہری نظام کی بدولت ترقی کر کے شہر بن گئے . 1978ء تک ہارون آباد تحصیل فورٹ عباس کا حصہ تھا بعد ازاں ہارون آباد کو بھی تحصیل کا درجہ دے دیا گیا.
ہارون آباد تحصیل کا اعلان پاکستان کے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے 1976 ء میں اپنے ایک انتخابی جلسے میں خطاب کے دوران کیا لیکن نوٹیفیکیشن 1978ء میں جاری ہوا . ضلع میں تین میونسپل کمیٹیاں بھاولنگر ، چشتیاں اور ہارون آباد ہیں . ٹاؤن کمیٹیوں کی تعداد پانچ ہے . ضلع میں کل 118 یونین کونسلیں ہیں . جبکہ کل دیہاتوں یا موضعات کی تعداد 1098 یے .
ضلع بھاولنگر کے شمال میں پنجاب کا سب سے بڑا دریا ستلج ہے . ستلج مشرق سے بھاولنگر میں داخل ہوتا ہے اور تقریبآ 128 کلو میٹر بہتا ہوا ضلع بھاولپور میں داخل ہوتا ہے اور پھر ضلع رحیم یار خان میں چاچڑاں کے مقام پر دریائے سندھ میں جا گرتا ہے . ستلج کا ذکر قدیم ویدوں میں موجود ہے اور اس کا نام ” ستدرو ” بتایا گیا ہے . قیام پاکستان سے قبل ستلج کو پنجاب کی سرحد مانا جاتا تھا گو کہ کچھ علاقے ستلج سے پار بھی ایسے تھے جو پنجاب کا حصہ تھے . پاک بھارت سندھ طاس معاہدہ کے بعد ستلج کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کر لیا گیا جس کے بعد ستلج میں پانی کی شدید کمی ہو گئی . اب یہ دریا سیلابی موسم میں ہی پانی کی بڑی مقدار لاتا ہے جبکہ عمومی طور پر تقریبآ خشک ہی رہتا ہے . پنجاب کی کچھ بڑی شخصیتوں کا تعلق ستلج کے اردگرد بسنے والی آبادیوں سے تھا . جیسے بابا فرید گنج شکر ، بابا بلہے شاہ ، خواجہ فرید جبکہ وارث شاہ نے جس قصبے ملکہ ہانس میں بیٹھ کر ہیر وارث شاہ لکھی وہ بھی ستلج پر واقع ہے . ستلج کو بھاول نگر میں مقامی طور پر ” نیئن ” بھی کہا جاتا ہے.
ضلع بھاولنگر زمین کی سطح کے حساب سے زیادہ تر صحرائی علاقہ پر مشتمل ہے . دریا کے ساتھ ایک لمبی پٹی کو ” ہٹھاڑ ” کہا جاتا ہے . نہری نظام کے بعد آباد ہونے والے علاقے کو ” اُوتاڑ ” کہتے ہیں جبکہ خالص صحرائی علاقے کو چولستان یا روہی بھی کہا جاتا ہے . چولستان میں قدیم دریا گھاگرا (ہاکڑہ) کی گزر گاہوں کے آثار بھی ملے ہیں . چولستان میں قلعوں کا ایک سلسلہ بھی ملتا ہے جن میں سے کچھ قلعے مسمار ہو چکے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں . چولستان میں جنگلی حیات پائی جاتی ہے جس میں ہرن ، نیل گائے اور تلور وغیرہ مشہور ہیں .
ضلع میں ریلوے کا نظام 88-1887ء میں بنایا گیا . بھاول نگر جنکشن ہے اور یہاں سے مشرق میں امروکا تک اور جنوب میں فورٹ عباس تک اور مغرب میں سمہ سٹہ تک ریلوے لائن جاتی ہے . بھاول نگر ریلوے لائن کے ذریعے سے بذریعہ سمہ سٹہ لاہور کراچی وغیرہ سے ملا ہوا ہے . ماضی میں بھاول نگر ریلوے ایک بڑا جنکشن تھا جہاں سے 12 اپ اور ڈاؤن ایکسپریس ٹرینیں چلتی تھیں جن میں سے چھ کراچی سے دہلی براستہ بھاول نگر . فیروزپور چلتی تھیں اور چھ ایکسپریس ٹرینیں کوئیٹہ سے انبالہ چھاؤنی چلتی تھیں جبکہ مال گاڑیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں تھی چوبیس گھنٹے سٹیم انجن شنٹنگ کرتے سنائی دیتے تھے دس ہزار سے زائد لوگ ریلوے کے کواٹروں میں رہائش پزیر تھے جو صرف ریلوے ملازمین کے اہل خانہ تھے جن کے لے چار ایکٹر کے بنگلوں سے لے کر ایک کمرے کے سینکڑوں کواٹر تھے . ریلوے کی بجلی کا اپنا ایک جنریٹنگ سسٹم تھا جس سے دس ہزار کی ریلوے کالونی کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشن کو بھی بجلی مہیا کی جاتی تھی . ریلوے اسٹیشن سے تقریبآ ایک میل مشرق کی جانب ایک لوکو موٹو ورکشاپ تھی جہاں مکمل سٹیم انجن کی اوورہالنگ کی جاتی تھی اتنے ترقی یافتہ ریلوے اسٹیشن کے ساتھ وہ ہی سلوک ملازمین نے کیا جو ہمارے ملک کے ساتھ سیاست دانوں نے کیا ہے کہ آج تمام گاڑیاں بند ہو چکی ہیں ، ورکشاپ کی جگہ کینال محکمہ نے کالونی بسا لی ہے ، ریلوے کواٹر ، کوٹھیاں اور بنگلے بھوت بنگلوں میں تبدیل ہو چکے ہوچکے ہیں اور ریلوے اسٹیشن اجڑ کر کھنڈر کا نمونہ پیش کر رہا ہے اور اپنی عظمت رفتہ پر نوحہ کناں ہے. ضلع بھاولنگر کا مشہور میلہ حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کا عرس جو یکم سے 3 ذوالحجہ کی تاریخوں میں منایا جاتا ہے . جبکہ دوسرا بڑا عرس بہاولنگر میں حضرت عیسٰی خان بابا کا ہے جو یکم اور دو جمادی الثانی کو منایا جاتا ہے . ثقافتی سطح پر ضلع‌بھاولنگر‌بھی‌پنجاب‌کے‌دیگر‌ضلعوں مثلآ پاکپتن اور ساہیوال وغیرہ کی طرح کا ہی ہے . ضلع بھاولنگر میں عمومی طور پر پنجابی زبان بولی جاتی ہے . دریا کے ساتھ ساتھ قدیم لہجہ کو ہٹھاڑی کہا جاتا ہے جبکہ آبادکاروں میں مشرقی پنجاب کا لہجہ نمایاں ہے . چولستان میں سرائیکی بھی بولی جاتی ہے مگر ان لوگوں کی تعداد کافی کم ہے . ہٹھاڑ کے علاقے میں جوئیہ ، وٹو ، چشتی اور سید بڑی برادریاں ہیں جبکہ اُتاڑ میں آرائیں ، جٹ اور راجپوت بڑی برادریاں ہیں جبکہ شہروں میں شیخ قریشی ، ملک ،شیخ اور رحمانی بڑی برادریاں ہیں ، ہٹھاڑ کے علاقے کو جاگیردار علاقہ کہا جاتا ہے مگر اب زمین کی ملکیت تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے اور بڑے زمینداروں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے . اُتاڑ میں زمین چھوٹی ملکیت میں تقسیم ہے.

تمام درج مواد روزنامہ اردو کی املاک ہے اور اجازت کے بغیر نقل پبلیشر کی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا