ہمارے بارے میں

کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ آنکھوں میں کھٹکتے رہتے ہیں جب تک ان کو حقیقت کا روپ نہ دے دیا جائے ایسا ہی میرا ایک خواب اپنی ذاتی ویب سائٹ بنانے کا تھا جس میں پاکستان اور خاص کر اپنے شہر بھاولنگر کا خوبصورت ماضی ، بدصورت حال اور روشن مستقبل دکھا سکوں دنیا کو بتا سکوں کہ میرا بھاولنگر ماضی میں کتنا خوبصورت تھا کھلی گلیاں ، صاف ستھری اور روشن سڑکیں ، پینے کا صاف اور میٹھا پانی ، نکاسی کے لئے ڈرینج کا اعلیٰ انتظام ، کھیل کے وسیع میدان ، تعلیم کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک ادارہ ، صحت کے مراکز ، ہر طرف سبز ہریالی بکھیرتے کھیت کھلیان جہاں سے اناج پورے برصغیر کی منڈیوں کو سپلائی ہوتا تھا ، ریلوے کا ایسا جدید نظام کہ شائد اگلے سو سال میں بھی دوبارہ وجود میں نہ آ سکے ، کاروبار کے لئے ایک بڑی غلہ منڈی اور چار کشادہ بازار جہاں صبح سے شام تک لاکھوں کا بزنس انتہائی ایمانداری کے ساتھ ہوتا تھا اور ملاوت یا جعلی اشیاء کی فروخت کا تصور تک نہیں تھا سب سے بڑھ کر طلبہ اور طالبات کے لئے بے شمار تعلیمی ادارے اور آگے بڑھنے کے وسیع مواقع لیکن پھر کیا ہوا میرے بھاولنگر کو کس کی نظر کھا گئے کہ ابادی بے مہار بڑھتی چلی گئی گلیاں اور سڑکیں تنگ ہو گئیں کھیل کے میدان چھومنتر ہو گئے کھیت کھلیان فصلوں سے بانجھ ہوگئے سونا اگلنے والی زمینوں پر سیم اور تھور نے اپنے پنجے گاڑھ لئے ، ملاوٹ اور جعلی اشیاء فروخت کرنے والوں نے کاروبار پر قبضہ کر لیا ، شرافت ناپید ہو گئی اور بدمعاشی کا ننگا ناچ شروع ہو گیا ، پیسے کو خدا بنا لیا گیا اور پیسہ ہی دین اور ایمان بن گیا ، بلڈنگیں تو بلند سے بلند ہوتی چلی گیئں لیکن ان میں رہنے والے بالشتیے بن گئے.

ایسا کیوں ہوا ؟

ایسا اس لئے ہوا کہ ہمارے ہر شعبہ زندگی سے وابسطہ صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے فرض سے پہلوتہی برتنے کا رویہ اپنائے رکھا ، ہمارے بزرگوں نے پیسہ بنانے کی دوڑ میں اپنی اولاد کی تربیت سے لاپرواہی برتی تو علماء دین نے لوگوں کو درست راستہ دکھانےکی بجائے اپنے فرقہ اور مسلک کی زنجیر میں جکڑ کر قیدی بنا لیا ، سب سے بڑھ کر ہمارے حکمرانوں نے قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی بجائے ڈالر بنانے اور ملک سے باہر لے جانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تو ایسے میں قوم بھی حال مست اور مال مست ہو گئی اور ایک مخصوص ذہنیت طبقہ نے پاکستان کے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا.       روزنامہ اردو ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے اپنی عظیم پاکستانی قوم کو یہ بتائے گا اور دکھائے گا کہ ہمارے اسلاف کا کیا راستہ تھا جس پر چل کر انھوں نے دنیا پر حکمرانی کی تھی آؤ اور وہ درست راہ اختیار کرو تاکہ ہم دوبارہ وہی عروج حاصل کر سکیں یہی ہمارا مقصد ہے اور یہی پاکستان کی نشاۃُ ثانیہ ہے .

روزنامہ اردو ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے آپ سے یہ عہد کرتا ہے کہ ہم اپنے اس نیک مقصد کو لے کر سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو کسی بھی بالادست کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جاری رہے گا . انشاءاللہ

والسلام

آپ کا اپنا                                                                                                                                         نبیل خالد شیخ

تمام درج مواد روزنامہ اردو کی املاک ہے اور اجازت کے بغیر نقل پبلیشر کی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا